Usool e deen in urdu
اصول دین و این کی جڑیں ۔ توحید : یعنی اللہ تعالی موجود ہے وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا وہ اپنی ذات اور صفات میں واحد ہ لاشریک ہے ۔ وہ بے نیاز ہے ۔ وہ کسی کا باپ اور بیٹا نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر اور کفو ہے ۔ عدل : اللہ تعالی عادل ہے یعنی وہ ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پرقراردیتا ہے ۔ ووصفت ظلم سے منزہ ہے اس کے تمام فیصلے عدل پر بنی ہیں ۔ نبوت : اللہ تعالی نے لوگوں کی رشد و ہدایت کے لیے معصوم افراد کو اپنے نمائندے بنا کر لوگوں کے پاس روانہ کیا ، جنھیں نبی کہا جاتا ہے ۔ تمام انبیاء ہر قسم کے گناہ سے پاک ہوتے ہیں ۔سلسلہ نبوت کا آغاز حضرت آدم سے ہوا اور اس کا اختتام حضرت محمدمصطفی ﷺ پر ہوا ۔ اللہ تعالی نے انبیاء پر صحیفے اور کتابیں نازل فرمائیں تھیں ، جن میں سے اس وقت صرف قرآن مجید اپنی اصلی اور غیر محرف شکل میں موجود ہے ۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور قرآن مجید انسانیت کے نام پر خدا کا آخری پیغام ہے ۔ رسول اکرم ﷺ کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی نہیں آۓ گا اور جو بھی آنحضرت کے بعد نبوت کا دعوی کرے گا وہ کافرو مرتد ہے ۔ امامت : حضرت رسول خدا ﷺکی رحلت کے بعد اللہ تعالی نے دین کی حفاظت اور پیغمبر اکرم ملتے ہی اکرام کی تعلیمات کی بقاء کے لیے امام مقرر کیے ، جن کا اعلان رسول خدا نے اپنی حیات مبارکہ میں کیا تھا ۔ ائمہ کی کل تعداد بارہ ہے جن میں سے گیارہ امام درجہ شہادت پر فائز ہو چکے ہیں اور بارہو میں امام بحکم خدا زندہ ہیں ۔ جب اللہ تعالی کا حکم ہو گا تو وہ ظہور فرمائیں گے اور ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے ۔ تمام کے تمام ائمہ ہرقسم کے گناہ اور لغزش سے معصوم ہیں ۔ ان کے نام حسب ذیل
حضرت امام علی علی * حضرت امام حسن علی حضرت امام حسین علی ہ حضرت امام زین العابدین علم ہ حضرت امام محمد باقر علی * حضرت امام جعفر صادق علیہ حضرت امام موسی کاظم علی * حضرت امام علی رضائی حضرت امام محمدتقی علی * حضرت امام علی نقی علی * حضرت امام حسن عسکری علی * حضرت امام محمد مهدی علی قیامت : ایک دن ایسا آنے والا ہے جب اللہ تعالی تمام مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کے عقائد و اعمال کا حساب لے گا۔جن کے عقائد و اعمال صحیح ہوں گے ان کو جزا دے گا اور انہیں جنت میں داخل کرے گا ۔ جبکہ ہد عقیدہ اور بدگمل افرادکو دوزخ میں ڈالے گا اور اس کے کسی فیصلہ میں ظلم کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا ہے
Comments
Post a Comment